نیکی کا صلہ – ایک خلوص بھری خدمت جس نے دلوں کو بدل دیا
شہر کے کنارے پر ایک پرانی، گرد آلود سڑک تھی جہاں دن بھر لوگ آتے جاتے رہتے۔ دھوپ میں جھلسا ہوا ایک بوڑھا شخص اسی سڑک کے کنارے بیٹھا رہتا۔ اس کا نام فقیر محمد تھا۔ نہ اس کے پاس کوئی بڑا گھر تھا، نہ دولت، مگر اس کے پاس ایک مٹکا اور پانی کی ایک بالٹی ضرور تھی۔
روز دوپہر کے وقت وہ وہاں بیٹھ کر راہگیروں کو پانی پلاتا۔
کوئی مزدور پیاسا گزرتا تو وہ مسکرا کر کہتا:
“بیٹا، پانی پی لو، یہ اللہ کی نعمت ہے۔”
لوگ اکثر اُسے نظرانداز کر دیتے، کچھ ہنس کر گزر جاتے۔ مگر وہ پھر بھی ہر دن وہی کام کرتا — خاموشی سے، خلوص کے ساتھ۔
کچھ لوگ اُس پر طنز کرتے:
“بوڑھے، تجھے کیا ملتا ہے اس سب سے؟”
وہ نرمی سے جواب دیتا:
“جب کوئی پیاسا پانی پیتا ہے تو میرا دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہی میرا انعام ہے۔”
ایک دن گرمی اپنی انتہا پر تھی۔ سڑک دھوپ سے جل رہی تھی، درختوں کے سائے بھی سکڑ گئے تھے۔
اچانک ایک قافلہ وہاں سے گزرا — اُس میں شہر کا مشہور تاجر عبدالرزاق بھی شامل تھا۔ قافلے کے لوگ پسینے میں شرابور تھے۔
بوڑھا فوراً کھڑا ہوا، بالٹی سے پانی نکال کر اُنہیں پلانے لگا۔
عبدالرزاق نے حیرت سے پوچھا، “بابا! تم کون ہو؟ کیا یہ تمہارا کام ہے؟”
فقیر محمد نے مسکرا کر کہا،
“نہیں بیٹا، یہ عبادت ہے۔ اللہ کے بندوں کی خدمت میں سکون ہے۔”
عبدالرزاق کے دل پر یہ بات گہرے اثر کے ساتھ لگی۔ اُس نے پانی پیا اور محسوس کیا کہ اُس کا جسم ہی نہیں، دل بھی ٹھنڈا ہو گیا ہے۔
وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا،
“بابا، تمہارے پاس کچھ نہیں، پھر بھی تم اتنا بانٹتے ہو۔ میں سب کچھ رکھتے ہوئے بھی خالی محسوس کرتا ہوں۔”
چند دن بعد عبدالرزاق واپس آیا۔ مگر اس بار اکیلا نہیں، وہ اپنے مزدوروں کے ساتھ تھا۔ اُس نے وہ جگہ صاف کروائی، ایک پکا کنواں بنوایا، اور اُس کے پاس ایک سایہ دار چھت بھی تعمیر کروا دی۔
کنویں کے اوپر ایک تختی لگوائی گئی جس پر لکھا تھا:
“یہ پانی ہر پیاسے کے لیے ہے، اُس بزرگ کے نام جس نے خدمت کو عبادت بنایا۔”
فقیر محمد کے آنسو بہنے لگے۔ اُس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا،
“اللہ نے میری نیکی قبول کر لی۔ میں تو ایک بالٹی لایا تھا، اُس نے کنواں بنا دیا۔”
وقت گزرتا گیا، لوگ وہاں آتے، پانی پیتے، دعائیں دیتے۔
اب جب کوئی اُس جگہ سے گزرتا تو کہتا، “یہ وہ جگہ ہے جہاں نیکی نے دلوں کو بدل دیا تھا۔”
بوڑھا شخص کچھ ہی عرصے بعد دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر اُس کے خلوص نے صدیوں تک نیکی کی خوشبو پھیلا دی۔
آج بھی لوگ اُس کنویں سے پانی پیتے ہوئے دعا کرتے ہیں:
“اللہ ہمیں بھی وہ دل دے جو بغیر فائدے کے نیکی کرے۔”
🌿 سبق:
نیکی کا صلہ ہمیشہ فوری نہیں ملتا، مگر جب خلوص کے ساتھ کی جائے تو اللہ خود اُس کا بدلہ دیتا ہے۔
نیکی دولت سے نہیں، نیت سے ہوتی ہے۔
اگر ایک خالص دل کے ساتھ کیا گیا عمل کسی ایک انسان کا دل بدل دے، تو وہ نیکی ہزار دعاؤں کے برابر بن جاتی ہے۔
دنیا شاید بھول جائے، مگر اللہ کے نزدیک ہر نیکی محفوظ رہتی ہے۔