قرآن پر عمل – دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز
قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ عمل کا منشور ہے۔ اس پر عمل ہی مومن کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ قرآن خود اعلان کرتا ہے:
“یہ کتاب ہم نے تم پر نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور اہلِ عقل نصیحت حاصل کریں۔” (سورۃ ص: 29)
قرآن پر عمل کی مثالیں
نبی کریم ﷺ کی زندگی قرآن کا عملی نمونہ تھی۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کا اخلاق کیسا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا:
“ان کا اخلاق قرآن تھا۔” (مسند احمد)
قرآن اور سماجی انصاف
قرآن ہمیں عدل، دیانت، صبر، شکر، اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ اگر معاشرہ قرآن کے اصولوں پر عمل کرے تو ظلم، غربت، اور نفاق ختم ہو سکتا ہے۔
قرآن سے غفلت
اللہ تعالیٰ نے قرآن سے اعراض کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:
“اور رسول کہے گا: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔” (سورۃ الفرقان: 30)
یہ آیت اس بات کی تنبیہ ہے کہ صرف زبانی تلاوت کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل لازم ہے۔
نتیجہ
قرآن وہ روشنی ہے جو زندگی کے ہر گوشے کو منور کرتی ہے۔ جو قوم قرآن سے جڑتی ہے، وہ عروج پاتی ہے، اور جو اس سے دور ہوتی ہے، وہ زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔