اللہ پر بھروسہ – یقین، دعا اور توکل کی روشن مثال
ایک پرانے قصبے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام یوسف تھا۔ وہ ایک محنتی مزدور، دیانتدار انسان، اور ایمان میں مضبوط تھا۔ اس کی زندگی سادہ تھی، مگر دل بڑا۔ روز صبح سورج نکلنے سے پہلے مسجد میں فجر ادا کرتا، پھر کام پر نکل جاتا۔
یوسف کا ایمان تھا کہ “رزق ہاتھ سے نہیں، اللہ کے حکم سے آتا ہے۔”
مگر زندگی ہمیشہ آسان نہیں تھی۔ کچھ دن ایسے بھی آئے جب گھر میں اناج ختم ہو جاتا، اور بچے بھوکے سونے لگتے۔
بیوی کہتی، “یوسف، کچھ ادھار لے لو، کچھ بندوبست کر لو۔”
یوسف نرم لہجے میں جواب دیتا،
“اللہ نے وعدہ کیا ہے، جو اس پر بھروسہ کرے، وہ اُسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔”
دن گزرتے گئے، مگر آزمائشیں بڑھتی گئیں۔ ایک دن اُس کا کام بھی چھوٹ گیا۔ شام کو وہ خالی ہاتھ گھر لوٹا۔ بچے اُس کی طرف دیکھ رہے تھے، جیسے خاموشی میں سوال کر رہے ہوں۔
یوسف نے وضو کیا، مصلیٰ بچھایا، اور دیر تک سجدے میں گڑگڑاتا رہا۔ اُس کے آنسو چہرے پر بہہ رہے تھے۔ وہ کہہ رہا تھا:
“اے میرے رب، میں تیرے در کے سوا کسی اور کے در پر نہیں جاؤں گا۔ تو میرا رازق ہے، تو ہی میری امید ہے۔”
رات بیت گئی۔ اگلی صبح یوسف حسبِ عادت مسجد گیا۔ واپسی پر اُس نے دیکھا کہ گلی کے کونے پر ایک بوڑھا شخص پریشانی میں کھڑا ہے۔ یوسف آگے بڑھا اور پوچھا، “کیا ہوا بابا؟”
بوڑھے نے کہا، “میرے مزدور آج نہیں آئے، اور مجھے کچھ سامان گودام سے اٹھانا ہے۔ کیا تم مدد کرو گے؟”
یوسف نے فوراً ہامی بھر لی۔
وہ سارا دن اُس کے ساتھ کام کرتا رہا۔ شام کو جب کام مکمل ہوا تو بوڑھے نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک تھیلا اس کے ہاتھ میں دیا۔
یوسف نے سوچا یہ مزدوری ہوگی، مگر جب گھر آ کر تھیلا کھولا تو اُس میں آٹا، چاول، دال، اور کچھ رقم تھی۔
یوسف کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اُس نے سر اُٹھا کر کہا:
“اے ربّ العالمین! تو نے آج پھر ثابت کر دیا کہ جس نے تجھ پر بھروسہ کیا، وہ کبھی خالی نہیں لوٹا۔”
چند دنوں بعد وہی بوڑھا دوبارہ آیا، اور بولا:
“یوسف، تمہاری دیانتداری نے مجھے متاثر کیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میرے گودام کے نگران بن جاؤ۔”
یوں اللہ نے یوسف کو نہ صرف روزگار دیا بلکہ عزت اور سکون بھی عطا فرمایا۔
وقت گزرتا گیا۔ اب یوسف دوسروں کی مدد کرنے لگا۔
جب کوئی غریب اس کے در پر آتا تو وہ کہتا،
“بھائی، مانگنے سے پہلے یقین رکھو۔ اللہ دینے والا ہے، میں تو صرف وسیلہ ہوں۔”
سالوں بعد جب یوسف بوڑھا ہو چکا تھا، اُس کے شاگردوں نے پوچھا،
“استاد جی، آپ ہمیشہ مطمئن کیسے رہتے ہیں؟”
یوسف مسکرا کر بولا،
“جب دل اللہ پر یقین رکھتا ہے، تو زندگی کی ہر کمی نعمت بن جاتی ہے۔ توکل یہ نہیں کہ کچھ نہ کرو، بلکہ یہ ہے کہ سب کچھ کرو، مگر دل میں بھروسہ صرف اللہ پر رکھو۔”
💫 سبق:
اللہ پر بھروسہ صرف الفاظ نہیں، ایمان کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔
جب سب دروازے بند ہو جائیں، تب جو دل اللہ کے در پر قائم رہے، وہی سچا مومن ہے۔
دعا اور توکل ساتھ ہوں تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔
یقین رکھیے — جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔