حدیث کی حقیقت اور اس کی اہمیت — قرآن کے بعد دوسرا ماخذِ شریعت
اسلام کی بنیاد دو اہم ستونوں پر قائم ہے: قرآنِ مجید اور احادیثِ رسول ﷺ۔
قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جبکہ حدیث نبی اکرم ﷺ کے فرمودات، افعال، اور منظوریوں کا مجموعہ ہے۔ حدیث دراصل قرآن کی عملی تفسیر ہے۔ اگر قرآن قانون ہے تو حدیث اس قانون کا عملی نفاذ ہے۔
قرآن میں ارشاد ہے:
“وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا”
(سورۃ الحشر: 7)
ترجمہ: “رسول تمہیں جو دے، وہ لے لو، اور جس سے روکے، اس سے رک جاؤ۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسول ﷺ کی سنت قرآن کے بعد سب سے اہم رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
“میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، اگر تم ان پر عمل کرو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔”
(موطا امام مالک)
حدیث کی اقسام
- حدیثِ قولی: نبی ﷺ کے ارشادات جیسے “اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔”
- حدیثِ فعلی: آپ ﷺ کے اعمال، جیسے نماز کا طریقہ۔
- حدیثِ تقریری: جب کسی کے عمل پر آپ ﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی، تو وہ بھی سنت ہے۔
حدیث کا مقام
علمائے اسلام کے نزدیک قرآن کے بعد سب سے بڑا ماخذِ علم حدیث ہے۔ اگر قرآن ہمیں بنیادی اصول دیتا ہے تو حدیث ان اصولوں کی وضاحت کرتی ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج — ان تمام عبادات کی تفصیل ہمیں احادیث سے ملتی ہے۔
محدثین کی محنت
حدیث کی حفاظت کے لیے ائمہ محدثین نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ امام بخاریؒ نے لاکھوں روایات میں سے صرف صحیح ترین احادیث کو اپنی کتاب میں جمع کیا۔ امام مسلمؒ، امام نسائیؒ، امام ترمذیؒ، امام ابن ماجہؒ، اور دیگر محدثین نے علمِ روایت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔
نتیجہ
حدیث صرف الفاظ نہیں، بلکہ رسول ﷺ کی زندگی کا عکس ہے۔ جو شخص قرآن اور حدیث دونوں سے رہنمائی لیتا ہے، وہ سیدھی راہ پر چلتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
“لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”
(سورۃ الاحزاب: 21)
یعنی “تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے۔”