قرآن کی حفاظت – اللہ کا وعدہ اور تاریخ کی گواہی
قرآنِ مجید واحد آسمانی کتاب ہے جو نزول سے لے کر آج تک ایک حرف تک تبدیل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا:
“إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ”
(سورۃ الحجر: 9)
ترجمہ: “بیشک ہم ہی نے یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔”
نزول کے بعد قرآن کا جمع ہونا
قرآن نبی ﷺ کے زمانے میں زبانی طور پر یاد کیا جاتا تھا۔ ہزاروں صحابہ کرامؓ حافظِ قرآن تھے۔ نبی ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے زید بن ثابتؓ کی نگرانی میں قرآن کو ایک مصحف میں جمع کروایا۔
حضرت عثمانؓ کا کردار
حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں قرآن کو ایک قراءت پر یکجا کر کے امت میں عام کیا گیا، تاکہ اختلاف نہ ہو۔ اسی مصحف کی نقلیں آج بھی دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔
علمی شہادت
چودہ سو سال گزرنے کے باوجود قرآن میں ایک نقطے یا حرکت کی تبدیلی نہیں ہوئی۔ آج کروڑوں لوگ قرآن زبانی یاد کیے ہوئے ہیں۔ یہ خود ایک ایسا معجزہ ہے جو انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔
نتیجہ
قرآن کی حفاظت اللہ کے وعدے کی عملی دلیل ہے۔ آج بھی اگر دنیا کے تمام مصاحف مٹا دیے جائیں، تو لاکھوں حافظانِ قرآن چند دنوں میں اسے دوبارہ لکھ سکتے ہیں۔